ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا نے منایا جشن یوم آزادی
زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش نہیں کرتیں ـ(الحاج محمد علی)
بتیا17/ اگست(محمد قمرالزماں) ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا کی جانب سے پاراڈائز انگلش اسکول نیاٹولہ بتیا میں15/اگست کو جشن یوم آزادی کا انعقاد کیا گیا ـ دو ابواب پہ مشتمل اس تقریب کی صدارت استاد شاعر جناب ابوالخیر نشتر نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر محمدقمرالزماں قمر نے ادا کیا ـ تقریب کا آغاز جناب قاری محمد قربان نےتلاوت کلام پاک سے کیا ـ بعد از ایں ناظم تقریب نے یوم آزادی اور حالات حاظرہ پر مدلل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے اجداد کی قربانیوں کا ثمر ہے آزادی، ہمیں انکی قربانیوں کو یونہی ضائع نہیں ہونے دینا چاہئےـ موجودہ حالات میں ہمیں اپنی حکمت عملی سے اپنی شناخت اور اپنی آزادی کی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہےـ مٹھی بھر تنگ نظر لوگ وطن کی گنگا جمنی تہذیب کونقصان پہنچاکر بھائ چارہ اور قومی یکجہتی کی فضا کو مکدر بنا رہے ہیں ہمیں اپنی سوجھ بوجھ اور سیاسی شعور کو بروۓ کار لاکر امن کے دشمنوں کو کرارا جواب دینا ہوگا ـ آج ہمیں نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدارکر قائدانہ صلاحیت سے آراستہ کرنے کی اشد ضرورت ہےـ پاراڈائز انگلش اسکول کے روح رواں جناب شمیم احمد نے " آزادی میں مسلمانوں کا کردار" کے عنوان سے مدلل اور جامع مضمون پڑھ کر آزادی کے لۓ مسلمانوں کی جدوجہد اور علماء اور دانشوروں پر انگریزوں کے ظلم و ستم ،مجاہد آزادی پر ہوئ اذیت اور بربریت سے سامعین کو روشناس کرایاـ ادارہ ادب اسلامی ہند بتیا کے سکریٹری جناب فہیم حیدر ندوی نے "مسلم مجاہد آزادی " کے عنوان سے ایک واضح مضمون پڑھا اور بتایا کہ کس طرح آزادی کے لۓ مسلمانوں نے جہاد کیا اور کتنی جانوں کی قربانیوں کے بعد یہ آزادی ہمیں حاصل ہوئ ہےـ مسلمانوں نے آزادی کی لڑائ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بہت سے نعرے ایسے دۓ جو آج بھی زبان زد ہیں ـ ناشتے کے وقفے کے بعد کے دور میں شعراء نے اپنے کلام سے نوازا ـ پیش خدمت ہیں شعراء کے اشعار مع نام.....
جناب ابوالخیر نشتر نے ایک نظم "جشن آزادی" کے بعد ایک غزل سنائ ـ شعر حاظر خدمت ہے: ـ
مزاج کربلا والے کبھی بدلا نہیں کرتے
یذید وقت کے دہلیز پر سجدہ نہیں کرتے
افتخار وصی عرف کریک بتیاوی
ہم کو آزادی ملی ہے ہم کرینگے لوٹ مار
ہم ہیں نیتا آپ ہم کو دھونسیا سکتے نہیں
ڈاکٹر محمد قمرالزماں قمر
مختلف رنگوں کے پھولوں سے ہے زینت اس کی
اس گلستاں کو اجڑنے سے بچائیں ہم سب
ڈاکٹر ذاکر حسن ذاکر
بے وفاؤں سے بھی وفا کرنا
عشق تو بھی یہی دعا کرنا
اختر حسین اختر
میں اپنے بھائ کو بیٹے کی طرح پالا ہے
اسی نے آج گریباں پہ ہاتھ ڈالا ہے
مجیب الحمٰن مجیب
راہ الفت کی چلو سب کو دکھایا جاۓ
سب کو نفرت کی اذیت سے بچایا جاۓ
تقریب کے آخر میں امیر مقامی جناب محمد علی نے اپنا تاثر پیش کرتے ہوۓ کہا کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں،ہمیں ان کے کارناموں سے سبق لے کر آگے کی زندگی کے لۓ لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے ـ فہیم حیدر ندوی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرت ہوۓ تقریب کے اختتام کا اعلان کیاــکثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت رہی جنکے نام ہیں۔محمد شمیم خان،شمشاد سيفی،مفتی سلیم،محمد ماجد،محمد عادل،سیّد ریّان،وغیرہ ۔