تہذیب کے ائینہ ہیں مجنوں گورکھپوری کے خطوط ۔۔ محجوب سعید حارث*
*احمد صدیق مجنوں گورکھپوری کی برسی پر ساجد علی میموریل کمیٹی نے کیا مذاکر کا انعقاد*
گورکھپ
اردو کے معروف نقاد، شاعر ،مترجم اور افسانہ نگار پروفیسر مجنوں گورکھپوری کی 37ویں برسی کے موقع پر ساجد علی میموریل کمیٹی گورکھپور کی جانب سے ایک ادبی مذاکرے کا اہتمام، حامد علی ہال، آغوش حمیدیہ گھاسی کٹرہ, گورکھپور میں کیا گیا۔
مذاکرے کی صدارت معروف شاعر ڈاکٹر کلیم قیصر نے کیا جبکہ بطور مہمان خصوصی احتشام صدیقی موجود رہے ۔ عبدالباقی خاں حاصل، محمد افراھیم اور ضمیر احمد پیام نے بھی اسٹیج کو زینت بخشی۔
مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ساجد علی میموریل کمیٹی کے سیکرٹری محبوب سعید حارث نے بتایا کہ مجنوں گورکھپوری سے ان کے والد حامد علی صاحب سے گہرے مراسم تھے اور وہ ان کے والد کے استاد بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تقسیم وطن کے بعد جب مجنوں صاحب پڑوسی ملک منتقل ہو گئے۔ اس کے بعد بھی خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا اور زندگی کے آخری ایام تک مجنوں گورکھپوری اور ان کے والد کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری تھا۔
محبوب سعید حارث نے بتایا کہ میرے والد بھی اپنے استاد مجنوں گورکھپوری کے اعزاز میں اکثر و بیشتر پروگراموں کا انعقاد کیا کرتے تھے۔ اس روایت کو زندہ رکھتے ہوئے آج ہم لوگ بھی مجنوں گورکھپوری کے یوم وفات کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ مجنوں گورکھپوری ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اوران کے افسانوں کے مجموعی خواب و خیال مجنوں کے افسانے، سرنوشت سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔
مذاکرے کی صدارت کر رہے ڈاکٹر کلیم قیصر نے بتایا کہ ترقی پسند تحریک کا خمیر تو سن 1936 میں تیار ہو چکا تھا لیکن جب 1944 میں مجنوں گورکپوری کی کتاب "ادب اور زندگی" منظر عام پر آئی تو اس نے ترقی پسندی کے اصولوں کو کافی حد تک واضح کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور سے مجنوں گورکپوری صاحب سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔مجنون صاحب سوچتے تو انگریزی میں تھے لیکن کام اردو میں کرتے تھے اور اردو میں کام کی وجہ سے ہی ان کی شناخت قائم ہوئی۔وہ کسی فرقے کسی خانوادے سے متصل نہیں رہے بلکہ وہ سپر جینیس تھے۔
بطور مہمان خصوصی مجنوں گورکھپوری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے احتشام صدیقی نے بتایا کہ گورکپور کو سمجھنے کے لیے کئی جنم لینے کی ضرورت ہے اور جب بات مجنوں گورکھپوری کی ہو تو یقینا مجنوں گورکھپوری جیسی بلند و بالا اور ابکری شخصیت کو سمجھنے کے لیے ایک عمر درکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجنوں گورکھپوری نے جو خطوط لکھے ہیں۔ وہ صرف خطوط ہی نہیں بلکہ ان کی عہد کے ائینہ ہیں اور اس آئینہ میں اس عہد کی تڑپ، شائستگی ، سنجیدگی اور زمانے کے نشیب و فراز کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔
مذاکرے کو خطاب کرتے ہوئے مزاحیہ خاکہ نگار اور سماجی کارکن قاضی کلیم الحق نے بتایا کہ مجنوں صاحب نے تعلیم گورکھپور ، علی گڑھ اور الہ آباد میں مکمل کی ۔اُنہیں نے آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی میں اور کلکتہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم ،اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے ۔
انہوں نے بتایا کہ مجنوں گورکھپوری نے مغربی ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کا اُردو میں ترجمہ بھی کیا تھا ۔ جس میں آسکروائلڈ ، ٹالسٹائی ، اور ملٹن خاص ہیں۔
محفل کو خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی اور ادیب قاضی عبدالرحمن نے کہا کہ اردو ادب کے چند تخلیق کاروں میں ان کا قلم سرفہرست ہے۔ جنہوں نے اردو شاعری اور افسانہ نگاری کے فن کو میں نمایاں کارکردگی اختیار کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجنوں گورکپوری فراق گورکھپوری کے ہم عصروں میں تھے۔ فراق اکثر کہا کرتے تھے کہ ادب کے دو ہی انٹیلیکچوئل ہیں ایک میں اور دوسرے مجنوں گورکھپوری۔ مجنوں گورکھپوری نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب کا بھی بغور مطالعہ کیا تھا اور ان کی تنقیدوں میں اور ان کے افسانوں میں انگریزی ادب کے مطالعہ کی پختگی نظر آتی ہے
بزم کو خطاب کرتے ہوئے صحافی جناب ضمیر احمد نے پیام نے بتایا کہ کیا خبر تھی کہ زندگی کے آخری ایام میں وہ ترک وطن کر کے پڑوسی ملک چلے جائیں گے۔ کیونکہ یہ بھی ان کی مجبوری تھی کہ ہندوستان میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں بچا تھا۔
وہ اپنے بڑے بیٹے کے پاس پڑوسی ملک چلے گئے اور وہاں جا کر ایسا گم ہو گئے کہ نہ تو ان کی ادبی کارناموں کی خبر مل سکی اور نہ ہی ان کی وفات کی۔
اس موقع پر عبدالباقی خان حاصل نے بتایا کہ گورکپھور سے مجنوں گورکھپوری نے جو تعلیمی سفر شروع کیا وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر جا کر ختم ہوا۔ انہوں نے گورکپور کے سینٹنڈریوز ڈگری کالج میں بطور استاد اپنی خدمات پیش کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مجنوں گورکھپوری ان کے والد کے ہم جماعت تھے اور اکثر والد صاحب کے ساتھ مجنوں گورکھپوری کی رہائشیگاہ پر جایا کرتے تھے۔
ادبی مذاکرے کی نظامت کر رہے محمد فرخ جمال نے بتایا کہ مجنوں گورکپوری ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔وہ بلند پایا نقاد، شاعر، مترجم اور افسانہ نگار تھے۔ لیکن ان سب میں مجنوں صاحب کی شناخت ان کی تنقید نگاری کی وجہ سے قائم ہوئی۔ وہ اچھے شاعر بھی تھے ان کے والد جناب فاروق دیوانہ صاحب دیوان شاعر تھے۔
فرخ جمال نے بتایا کہ مجنوں گورکپوری کا شمار اردو کے چند بڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، نکات مجنوں تنقیدی حاشیی، تاریخ جمالیات ادب اور زندگی غالب شخص اور شاعر شعر و غزل اور غزل سرا کے نام سرفہرست ہیں۔
مجنوں گورکھپوری کے یوم وفات کے موقع پر ہونے والے اس مذاکرے میں سید عاصم رؤف، محمد انور ضیاء ، ڈاکٹر محمد اشرف، انجینیئر رفیع احمد ، ڈاکٹر زیبا، ڈاکٹر سلمہ بانو، رضوان اللہ خان محمود الحق محمود، مجاز گورکھپوری، محمد مسلم اور صحافی سید ریحان وغیرہ موجود تھے۔